قرآن مجید اتارنے کامقصد NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 2131 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:
انا ارسلنٰک شاھدًاومبشرًاونذیرًا o لتؤمنواباﷲ ورسولہٖ وتعزروہ وتؤقروہ وتسبحوہ بکرۃً واصیلاً ۱؂o۔
اے نبی بے شک ہم نے تمہیں بھیجا گواہ او رخوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، تاکہ اے لوگو ! تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤاور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اﷲکی پاکی بولو ۔
(۱؂القرآن الکریم ۴۸/ ۸ و ۹ )

مسلمانو ! دیکھو دین اسلام بھیجنے ، قرآن مجید اتارنے ،کامقصود ہی تمہارا مولٰی تبارک و تعالٰی تین باتیں بتاتاہے:
٭ اول یہ کہ اﷲ و رسول پر ایمان لائیں ۔
٭ دوئم یہ کہ رسول اﷲ کی تعظیم کریں ۔
٭ سوئم یہ کہ اﷲتبارک و تعالٰی کی عبادت میں رہیں۔

مسلمانو! ان تینوں عظمت والی باتوں کی خوبصورت ترتیب تو دیکھو،سب میں پہلے ایمان کوذکرفرمایا اور سب سے آخر میں اپنی عبادت کو اور بیچ میں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کو، اس لئے کہ بغیر ایمان، تعظیم بکارآمد نہیں۔بہت سارے عیسائی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم اور حضور پر سے دفع اعتراضات کا فران لئیم میں تصنیفیں کرچکے ،لکچر دے چکے مگر جبکہ ایمان نہ لائے ،کچھ مفیدنہیں کہ ظاہری تعظیم ہوئی ،دل میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سچی عظمت ہوتی تو ضرو ر ایمان لاتے۔
پھر جب تک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سچی تعظیم نہ ہو، عمر بھرعبادت الٰہی میں گزرے، سب بے کارو مردودہے ۔بہت سے جوگی اور راہب ترک دنیا کرکے، اپنے طور پر ذکر عبادت الٰہی میں عمرکاٹ دیتے ہیں بلکہ ان میں بہت وہ ہیں ،کہ ٭ لاالٰہ الا اﷲ ٭ کا ذکر سیکھتے اورضربیں لگاتے ہیں مگر ازآنجاکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم نہیں،کیا فائدہ؟ اصلاً قابل قبول بارگاہ الہٰی نہیں ، اﷲ عزوجل ایسوں ہی کو فرماتا ہے:۔

وقدمنآالٰی ماعملوامن عمل فجعلنٰہ ھبآءً منثورًا ۲؂۔
جوکچھ اعمال انہوں نے کئے تھے، ہم نے سب برباد کر دئے۔
(۲؂القرآن الکریم ۲۵ /۲۳)

ایسوں ہی کو فرماتا ہے:

عاملۃناصبۃتصلٰی نارًا حامیۃً ۱؂۔
عمل کریں، مشقتیں بھریں اوربدلہ کیاہوگا؟یہ کہ بھڑکتی آگ میں پیٹھیں گے۔ والعیاذ باﷲ تعالی ۔
(۱؂القرآن الکریم ۸۸/ ۳ و۴)

مسلمانو!کہو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم، مدارِ ایمان و مدارِنجات ومدارِقبولِ اعمال ہوئی یا نہیں ؟ ۔ کہو ہوئی اور ضرورہوئی !

تمہارارب عزوجل فرماتا ہے:

قل ان کا ن اٰبآؤکم و ابنآؤکم و اخوانکم و ازواجکم وعشیرتکم واموال ن اقترتموھاوتجارۃ تخشون کسادھاومسٰکن ترضونھآاحب الیکم من اﷲ ورسولہٖ وجھاد فی سبیلہٖ فتربصوا حتٰی یاتی اﷲ بامرہ ط واﷲ لا یھدی القوم الفٰسقین ۲؂۔
اے نبی تم فرمادو،کہ اے لوگو! اگرتمہارے باپ ، تمہارے بیٹے ،تمھارے بھائی، تمہاری بیبیاں،تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال او ر وہ سوداگری جس کے نقصان کا تمہیں اندیشہ ہے اور تمھارے پسند کے مکان، ان میں کوئی چیزبھی اگر تم کو اﷲ اور اﷲ کے رسول اور اسکی راہ میں کوشش کرنے سے زیادہ محبوب ہے، تو انتظار رکھویہاں تک کہ اﷲ اپناعذاب اتارے اور اﷲ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا ۔
(۲؂القرآن الکریم ۹ /۲۴)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جسے دنیا جہان میں کوئی معزز،کوئی عزیزکوئی مال،کوئی چیز، اﷲ و رسول سے زیادہ محبوب ہو، وہ بارگاہِ الہٰی سے مردود ہے ، اﷲ اسے اپنی طرف راہ نہ دے گا ،اسے عذابِ الٰہی کے انتظار میں رہنا چاہیے والعیاذ باﷲ تعالٰی۔

تمہارے پیارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لایؤمن احدکم حتٰی اکون احب الیہ من والدہٖ وولدہٖ والناس اجمعین۳؂۔
(۳؂صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷ )
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب وجوب محبۃ الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۹)
تم میں کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ، او لاد اور سب آدمیوں سے زیادہ پیارانہ ہوجاؤں۔
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

یہ حدیث بخاری وصحیح مسلم میں انس بن مالک انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ۔ اس نے تو یہ بات صاف فرمادی کہ جو حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے زیادہ کسی کوعزیز رکھے، ہرگزمسلمان نہیں۔

مسلمانوکہو! محمد، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تمام جہانوں سے زیادہ محبوب رکھنا مدارایمان و مدارنجات ہوایانہیں؟ کہو ہوااور ضرورہوا۔
یہاں تک توسارے کلمہ گو خوشی خوشی قبول کرلیں گے کہ ہاں ہمارے دل میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عظیم عظمت ہے ۔ ہاں ہاں ماں باپ اولاد سارے جہان سے زیادہ ہمیں حضو ر کی محبت ہے۔ بھائیو!خدا ایسا ہی کرے ،مگرذرا کان لگا کر اپنے رب کا ارشادسنو:-

تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے :

الم ط احسب الناس ان یترکوآ ان یقولوا اٰمنا و ھم لایفتنون o ۱؂۔
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں، کہ اتناکہہ لینے پر چھوڑدیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔
(۱؂القرآن الکریم ۲۹ /۱ و۲)

یہ آیت مسلمانوں کو ہوشیار کررہی ہے کہ دیکھوکلمہ گوئی اور زبانی ادعائے مسلمانی پرتمہارا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ہاں ہاں سنتے ہو!آزمائے جاؤگے، آزمائش میں پورے نکلے تو مسلمان ٹھہروگے ۔ہر شے کی آزمائش میں یہی دیکھاجاتاہے کہ جو باتیں اس کے حقیقی و واقعی ہونے کو درکار ہیں، وہ ا س میں ہیں یانہیں ؟ ا بھی قرآن و حدیث ارشاد فرماچکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کودوباتیں ضرورہیں۔

٭ (۱)محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم
٭ (۲) اور محمد رسول اﷲ کی محبت کو تمام جہان پر تقدیم

تو اس کی آزمائش کا یہ صریح طریقہ ہے کہ تم کو جن لوگوں سے کیسی ہی تعظیم، کتنی ہی عقیدت ، کتنی ہی دوستی ،کیسی ہی محبت کا علاقہ ہو۔ جیسے تمہارے باپ ،تمہارے استاد،تمہارے پیر ،تمہارے بھائی ، تمہارے احباب، تمہارے اصحاب،تمہارے مولوی ،تمہارے حافظ،تمہارے مفتی ،تمہارے واعظ وغیر ہ وغیرہ کوئی بھی ہو،جب وہ محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں اصلاً تمہارے قلب میں ان کی عظمت ان کی محبت کا نام ونشان نہ ر ہے فورًا ان سے الگ ہوجاؤ ، دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو، ان کی صورت ،ان کے نام سے نفرت کھاؤ پھرنہ تم اپنے رشتے، علاقے، دوستی، الفت کا پاس کرو نہ اس کی مولویت، مشیخیت ، بزرگی ، فضیلت، کو خطرے میں لاؤ آخر یہ جو کچھ تھا ، محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی غلامی کی بنا ء پر تھا جب یہ شخص ان ہی کی شان میں گستاخ ہوا پھرہمیں اس سے کیا علاقہ رہا ؟ اس کے جبے عمامے پر کیا جائیں ، کیا بہت سے یہودی جبے ،نہیں پہنتے؟کیا عمامے نہیں باندھتے ؟ اس کے نام و علم و ظاہری فضل کولے کر کیا کریں؟ کیا بہت سے پادری ، بکثرت فلسفی بڑے بڑے علوم وفنون نہیں جانتے اوراگر یہ نہیں بلکہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل تم نے اس کی بات بنانی چاہی اس نے حضور سے گستاخی کی اور تم نے اس سے دوستی نباہی یا اسے ہربرے سے بدتر برانہ جانا یااسے براکہنے پر برامانایا اسی قد ر کہ تم نے اس امر میں بے پروائی منائی یا تمہارے دل میں اس کی طرف سے سخت نفرت نہ آئی ،تو ﷲ اب تم ہی انصاف کرلو کہ تم ایمان کے امتحان میں کہاں پاس ہوئے ،قرآن و حدیث نے جس پر حصول ایمان کا مدار رکھا تھا اس سے کتنے دورنکل گئے۔
مسلمانو!کیا جس کے دل میں محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تعظیم ہوگی وہ ان کے گستاخ کی عزت کرسکے گا اگرچِہ اس کا پیر یا استادیا باپ ہی کیوں نہ ہو ، کیا جسے محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم تمام جہان سے زیادہ پیارے ہوں وہ ان کے گستاخ سے فورًاسخت شدید نفرت نہ کریگااگر چہ اسکا دوست یا بِھائی یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو ، ﷲِاپنے حال پر رحم کرو اپنے رب کی بات سنو، دیکھووہ کیوں کر تمہیں اپنی رَحمْت کی طرف بُلاتا ہے، دیکھو:-
تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتاہے:

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوْ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمْ اَوْ اَبْنَآءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیۡرَتَہُمْ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنْہُ ؕ وَ یُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
ترجمہ :۔ تو نہ پائے گا انہیں جو ایمان لاتے ہیں اﷲاورقِیَامت پر کہ ان کے دل میں اُن کی مَحَبَّت آنے پائے جنہوں نے خدا عَزّوَجلَّ او ر رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم سے مخالفت کی، چاہے وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یاعزیزہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں اﷲنے ایمان نَقْش کردیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مددفرمائی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا ،جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ رہیں گے ان میں اﷲ ان سے راضی اور وہ اﷲ سے راضی، یہی لوگ اﷲوالے ہیں۔اﷲوالے ہی مراد کو پہنچے ۔
(پارہ ۲۸،المجادلۃ ۲۲)

اس آیت کریمہ میں صاف فرمادیا کہ جو اﷲ عَزّوَجلَّ یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی جناب میں گُستاخی کرے،مسلمان اس سے دوستی نہ کریگا ،جن سے واضح طور پر یہ پتہ چلا جو اس سے دوستی کرے وہ مسلمان نہ ہوگا۔ پھر اس حکم کا قطعاً عام ہونا بِالتَّصْرِیْح اِرشاد فرمایا کہ باپ ،بیٹے ،بھائی ،عزیز سب کوگناِ یا، یعنی کوئی کیسا ہی تُمہارے خیال میں عزت و عَظْمَت والا یا کیسا ہی تمہیں فطری طو ر پر مَحبوب ہو، ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اس سے مَحَبّت نہیں رکھ سکتے، اس کی عزت نہیں مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔ مولٰی سُبْحَانَہ وَ تَعالٰی کا اتناٖٖٖفرمانا ہی مُسلمان کے لئے بَس تھا مگردیکھووہ تمہیں اپنی رَحمْت کی طرف بُلاتا،اپنی عظیم نعمتوں کا لالچ دِلاتا ہے کہ اگر اﷲ و رسول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا لحاظ نہ رکھاکسی سے عَلاقہ نہ رکھا تو تمہیں کیا کیا فائدے حاصل ہوں گے۔

٭ ۱) اﷲتعالٰی تمہارے دلوں میں ایمان نَقْش کردے گا جس میں اِن شاء ﷲتعالٰی ایمان پرخاتمے کی عظیم خوشخبری ہے کہ اﷲعَزّوَجلَّ کا لکھا نہیں مٹتا۔

٭ ۲) اﷲتعالی روحُ القدس (جبرائیل علیہ السلام) سے تمہاری مددفرمائے گا۔

٭ ۳) تمہیں ہمیشگی کی جنتوں میں لے جائے گاجن کے نیچے نہریں رَواں ہیں ۔

٭ ۴) تم خدا کے گروہ کہلاؤگے ، خدا والے ہوجاؤگے۔

٭ ۵) مُنہ مانگی مُرادیں پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کَروڑوں دَرَجے اَفْزُوں۔)

۶) سب سے زیادہ یہ کہ اﷲتم سے راضی ہوگا۔

۷) یہ کہ فرماتاہے ٭میں تم سے راضی تم مجھ سے راضی ٭ بندے کیلئے اس سے زائد او رکیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر اِنْتِہائے بندہ نوازی یہ کہ فرمایا اﷲان سے راضی وہ اﷲسے راضی ۔

مسلمانو! خدا لگتی کہنا اگر آدمی کروڑجانیں رکھتا ہو اور سب کی سب ان عظیم دولتوں پر نثار کردے تووﷲ مفت پائیں ، پھرزید و عمرو سے علاقہ تعظیم و محبت،یک لخت قطع کردینا کتنی بڑی بات ہے؟ جس پر ﷲ تعالٰی ان بے بہانعمتوں کا وعدہ فرمارہاہے اور اس کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ قرآن کریم کی عادت کریمہ ہے کہ جوحکم فرماتاہے جیساکہ اس کے ماننے والوں کو اپنی نعمتوں کی بشارت دیتا ہے، نہ ماننے والوں پر اپنے عذابوں کا تازیانہ بھی رکھتاہے کہ جو پست ہمت نعمتوں کی لالچ میں نہ آئیں ،سزاؤں کے ڈرسے، راہ پائیں ۔ وہ عذاب بھی سن لیجئے:

تمہارا رب عزوجل فرماتاہے:
یا یھا الذین اٰمنوا لا تتخذ وا اٰبآء کم واخوانکم اولیآء ان استحبوا الکفر علی الایمان ط ومن یتولھم منکم فاولٰئک ھم الظٰلمون۱؂۔

اے ایمان والو! اپنے باپ ،اپنے بھائیوں کودوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جوکوئی ان سے رفاقت پسند کرے وہی لوگ ستمگار ہیں۔
(۱؂القرآن الکریم ۹ /۲۳)

اور فرماتاہے کہ :
یایھا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء (الٰی قولہ تعالی) تسرون الیھم بالمودۃ ق وانا اعلم بمآ اخفیتم ومآ اعلنتم ط ومن یفعلہ منکم فقدضل سوآ ء السبیل (الٰی قولہٖ تعالٰی) لن تنفعکم ارحامکم ولآاولاد کم یوم القٰیمۃ ج یفصل بینکم ط واﷲ بماتعملون بصیر۔
اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم چھپ کران سے دوستی کرتے ہواور میں خوب جانتا ہوں جوتم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو اور تم میں جو ایسا کرے گا وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا۔ تمہارے رشتے اورتمہارے بچے تمہیں کچھ نفع نہ دیں گے۔ قیامت کے دن ۔اللہ تم میں اورتمہارے پیاروں میں جدائی ڈال دیگا کہ تم میں ایک، دوسرے کے کچھ کام نہ آسکے گا اور اﷲ تمہارے اعمال کو دیکھ رہاہے۔
(القرآن الکریم ۶۰ /۱تا۳)

اور فرماتاہے:
ومن یتولھم منکم فانہ منھم ط ان اﷲ لا یھدی القوم الظٰلمین ۳؂۔
تم میں جو ا ن سے دوستی کریگا توبےشک وہ انہیں میں سے ہے۔ بے شک اﷲہدایت نہیں کرتا ظالموں کو۔
(۳؂القرآن الکریم ۵ /۵۱)

پہلی د و آیتوں میں تو ان سے دوستی کرنے والوں کوظالم و گمراہ ہی فرمایا تھا، اس آیت کریمہ نے بالکل تصفیہ فرمادیا کہ جوان سے دوستی رکھے وہ بھی ان میں سے ہے ، ان ہی کی طرح کافر ہے ، ان کے ساتھ ایک رسی میں باندھا جائے گا اور وہ کوڑا بھی یادرکھیے کہ تم چھپ چھپ کر ان سے میل رکھتے ہو اور میں تمہارے چھپے اور ظاہر سب کوجانتا ہوں ۔ اب وہ رسی بھی سن لیجئے جس میں رسول ﷲ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے باندھے جائیں گے۔
تمہارا رب عزوجل فرماتاہے :

والذین یؤذ ون رسول اﷲ لھم عذاب الیم۔
جو رسول اﷲکو ایذاء دیتے ہیں ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔
(۱؂القرآن الکریم ۹ /۶۱)

اور فرماتا ہے :
ان الذین یؤذون اللٰہ ورسولہ لعنھم اللٰہ فی ا لد نیا و الاٰخرۃ و اعد لھم عذاباً مھیناً۲؂
بے شک جواﷲ و رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں ،اور اﷲ نے ان کیلئے ذلت کا عذاب تیارکر رکھا ہے ۔
اﷲ عزوجل ایذاء سے پاک ہے اسے کون ایذاء دے سکتاہے ۔ مگر حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو اپنی ایذاء فرمایا۔ ان آیتوں سے اس شخص پر جو رسول اﷲ کے بدگویوں سے محبت کا برتاؤ کرے ، سات کوڑے ثابت ہوئے۔:

(۱) وہ ظالم ہے۔

(۲) گمراہ ہے۔

(۳) کافر ہے۔

(۴) اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔

(۵) وہ آخرت میں ذلیل و خوارہوگا۔

(۶) اس نے اﷲ واحد قہار کوایذاء دی۔

(۷) اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔ والعیاذباﷲتعالٰی۔

اے مسلمان ! اے مسلمان! اے امتی سیدالانس والجان صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ! خدارا، ذرا انصاف کر، وہ سات بہتر ہیں جو ان لوگوں سے یک لخت علاقہ ترک کردینے پر ملتے ہیں کہ دل میں ایمان جم جائے اﷲ مددگار ہو، جنت مقام ہو، اﷲ والوں میں شمار ہو ، مرادیں ملیں ، خدا تجھ سے راضی ہو، توخدا سے راضی ہو یایہ سات بھلے ہیں جو ان لوگوں سے تعلق لگارہنے پر پڑیں گے کہ ظالم، گمراہ ، کافر، جہنمی ہو، آخرت میں خوارہو،خدا کوایذا دے، خدا دونوں جہان میں لعنت کرے۔ ہیھات، ہیھات کو ن کہہ سکتا ہے ۔ کہ یہ سات اچھے ہیں ، کون کہہ سکتا ہے کہ وہ سات چھوڑنے کے ہیں ،مگرجان برادر ! خالی یہ کہہ دینا تو کام نہیں دیتا، وہاں تو امتحان کی ٹھہری ہے ابھی آیت سن چکے الم احسب الناس ،کیا اس بھلاوے میں ہوکہ بس زبان سے کہہ کر چھوٹ جاؤگے امتحان نہ ہوگا ۔ ہاں یہی امتحان کا وقت ہے!دیکھویہ ﷲ واحد قہار کی طرف سے تمہاری جانچ ہے۔ دیکھو! وہ فر ما رہا ہے کہ تمہارے رشتے، علاقے قیامت میں کام نہ آئیں گے ، مجھ سے توڑ کر کس سے جوڑتے ہو۔ دیکھو ! وہ فرمارہاہے کہ میں غافل نہیں،میں بے خبر نہیں ،تمہارے اعمال دیکھ رہا ہوں، تمہارے اقوال سن رہا ہوں تمہارے دلوں کی حالت سے خبردار ہوں، دیکھو !بے پروائی نہ کرو، پرائے پیچھے، اپنی عاقبت نہ بگاڑو ، اﷲ ورسول کے مقابل ضد سے کام نہ لو، دیکھو وہ تمہیں اپنے سخت عذاب سے ڈراتا ہے۔ اس کے عذاب سے کہیں پناہ نہیں ،دیکھو ! وہ تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہے ، بے اس کی رحمت کے کہیں نباہ نہیں
دیکھو اور گناہ، تو نرے گناہ ہوتے ہیں جن پر عذاب کا استحقاق ہو،مگر ایمان نہیں جاتا،عذاب ہوکر خواہ رب کی رحمت، حبیب کی شفاعت سے ،بے عذاب ہی چھٹکاراہوجائے گا یا ہوسکتاہے ۔مگر یہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کامقام ہے انکی عظمت، ان کی محبت، مدارایمان ہے، قرآن مجید کی آیتیں سن چکے کہ جو اس معاملہ میں کمی کرے اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔ دیکھو جب ایمان گیا، پھر اصلاً، ابدالآ باد تک کبھی، کسی طرح ہر گز، اصلاً، عذاب شدید سے رہائی نہ ہوگی۔ گستاخی کرنے والے، جن کا تم یہاں کچھ پاس لحاظ کرو، وہاں اپنی بھگت رہے ہونگے تمہیں بچانے نہ آئیں گے اور آئیں تو کیا کرسکتے ہیں ؟ پھر ایسوں کا لحاظ کرکے، اپنی جان کو ہمیشہ ہمیشہ غضب جبارو عذاب نار میں پھنسادینا، کیا عقل کی بات ہے ؟۔
==============
ماخوذ از : تمہید ایمان