مسجد قباء NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1471 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ایک زمین کو پسند فرمایا جہاں خاندان عمرو بن عوف کی کھجوریں سکھائی جاتی تھیں اسی جگہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے مقدس ہاتھوں سے ایک مسجد کی بنیاد ڈالی۔ یہی وہ مسجد ہے جو آج بھی ” مسجد قباء ” کے نام سے مشہور ہے اور جس کی شان میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔

لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْه ط فِيْه رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهرُوْا ط وَاﷲُ يُحِبُّ الْمُطَّهرِيْنَ (توبه)

یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے پرہیزگاری پر رکھی ہوئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس (مسجد) میں ایسے لوگ ہیں جن کو پاکی بہت پسند ہے اور اﷲ تعالیٰ پاک رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

اس مبارک مسجد کی تعمیر میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ ساتھ خود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اپنے دست مبارک سے اتنے بڑے بڑے پتھر اُٹھاتے تھے کہ ان کے بوجھ سے جسم نازک خم ہو جاتا تھا اور اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے جاں نثار اصحاب میں سے کوئی عرض کرتا یا رسول اﷲ ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پر ہمارے ماں باپ قربان ہو جائیں آپ چھوڑ دیجیے ہم اٹھائیں گے، تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کی دلجوئی کے لیے چھوڑ دیتے مگر پھر اسی وزن کا دوسرا پتھر اٹھا لیتے اور خود ہی اس کو لاکر عمارت میں لگاتے اور تعمیری کام میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ آواز ملا کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے کہ

اَفْلَحَ مَنْ يُّعَالِجُ الْمَسْجِدَا

وَيَقْرَئُ الْقُرْاٰنَ قَائِمًا وَّقَاعِدًا

وَلَا يَبِيْتُ اللَّيْلَ عَنْه رَاقِدًا

وہ کامیاب ہے جو مسجد تعمیر کرتا ہے اور اٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتا ہے اور سوتے ہوئے رات نہیں گزارتا۔(وفاء الوفاء ج۱ ص۱۸۰)