عبادت کی حقیقت NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1862 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ \\\"منہاج العابدین\\\" کے مقدمہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں \\\"ہم نے عبادات کی حقیقت میں نظر کی، اس کے طریقوں پر غور کیا، اس کے بنیادی اُمور اور ان مقاصِد میں نظر دوڑائی جوسالِکِ راہِ آخرت(آخرت کی راہ پر چلنے والے) کو درپیش ہیں ، تو غور کرنے سے معلوم ہوا کہ طریقِ عبادت(عبادت کی راہوں پر چلنا) نہایت دشوار اور مشکل ہے، اس راہ میں نہایت تنگ و تاریک گھاٹیاں عبور کرنا پڑتی ہیں ، شدید مَشَقَّتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بڑی بڑی آفات راستے میں پیش آتی ہیں اور منزلِ مقصود تک پہنچنے میں بہت مَوَانِع اور رکاوٹیں در پیش ہیں اور طُول و طَوِیل، غَیر مَرْئی(جو آنکھوں سے دِکھائی نہ دے) مسافتوں کو طے کرنا پڑتا ہے۔
غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عبادت کے راستے میں گُونا گُوں (طرح طرح کی) ہلاک اور تباہ کن چیزیں مَخْفِی ہیں اور یہ کہ یہ راستہ خطرناک دشمنوں اور ڈاکوؤں میں گھرا ہوا ہے اور یہ کہ اس راستے کی شاخیں اور فُروعات سخت پیچیدہ ہیں مگر اس راستے کا ایسا مشکل اور پیچیدہ ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ جنت کا راستہ ہے اور جنت میں پہنچنا کوئی آسان نہیں۔
اور عبادت کا اتنا مشکل ہونا حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس ارشاد کی تصدیق کرتا ہے، آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) نے فرمایا ہے:
’’اَلَا وَ اِنَّ الْجَنَّۃَ حُفَّتْ بِالْمَکَا رِہِ وَ اِنَّ النَّارَ حُفَّتْ بِالشَّھَوَاتِ‘
سُن لو! جنت خلافِ نَفس کام کرنے سے حاصل ہوگی اور دوزخ میں لوگ شَہْوَات کی پیروی کی وجہ سے جائیں گے۔
سی بار ے میں آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کادوسرا ارشاد یہ ہے:
’’اَلَا وَ اِنَّ الْجَنَّۃَ حَزْنٌ بِرَبْوَۃٍ وَّ اِنَّ النَّارَ سَھْلٌ بِسَھْوَۃٍ‘‘
سُن لو کہ جنت اُونچے ٹیلے پر سَنْگْ لَاخ(سخت) زمین کی طرح ہے اور دوزخ صحن میں نرم و ہموار زمین کے اندر ہے۔ یعنی اَوَّلُ الذِّکْر زمین میں کاشت کرکے پھل حاصل کرنا نہایت محنت طلب ہے۔
پھر عبادت سے مُتعلِّقَہ مشکلات کے ساتھ ساتھ انسان ایک کمزور مخلوق ہے اور زمانہ طرح طرح کی صُعُوبَتوں (مشکلات) سے لبریز ہے اور دین کا معاملہ ترقی کے بجائے تَنَزُّل(پستی) کی طرف رُجوع کررہا ہے پھر دُنْیَوِی مشغولیتیں بہت ہیں اور عبادت کے واسطے وقت بہت مختصر ہے، اِدھر انسان کی عمر بہت کم ہے اور مزید یہ کہ انسان اَعمالِ صالِحہ کی بَجا آوری میں بہت لاپروائی کرتا ہے یعنی خُشوع اور خُضوع وغیرہ کا خیال بہت کم رکھتا ہے اور جس ذات نے اَعمال کو پَرَکھنا ہے وہ انتہائی بصیر ہے۔ ان تمام پریشانیوں کے ساتھ ساتھ موت ہر ثَانِیَہ(پل) قریب آرہی ہے اور انسان کو جو سفر در پیش ہے وہ بہت طویل ہے۔
مُنْدَرَجَہ بالا مشکلات میں گھرے ہوئے انسان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس خطرناک اور ضروری سفر کا توشَہ صرف عبادت ہے اور سفر میں زَادِ راہ کا ہونا ضروری ہے اور اس زَادِ راہ کو فراہم کرنے کا وقت اس تیزی سے گزر رہا ہے کہ ہرگز واپس نہیں آئے گا۔ تو جو شخص اس تھوڑے سے وقت میں زَادِ آخرت تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا سمجھو وہ نجات پاگیا اور اس نے ہمیشہ کی سعادت حاصل کرلی۔
لیکن جس احمق نے اس انتہائی قیمتی وقت کو لَہْوْ ولَعْب(فضول کاموں) میں کھودیا اور زادِ آخرت مہیا نہ کرسکا تو وہ بلاشک ناکام و نامراد رہا اور تباہ و برباد لوگوں میں سے ہوگیا۔
مذکورہ وُجوہات کے باعث یہ عبادت جس قدر مشکل ہے اس سے کہیں زیادہ اَہم بھی ہے اسی لیے اس سفر پر کمر بستہ ہونے والے تھوڑے ہیں اور پھر جم کر اِسْتِقْلَال(مستقل مزاجی) سے اس سفر کی مَنَازِل طے کرنے والے اس سے تھوڑے ہیں مگر منزلِ مقصود تک پہنچنے والے ہی خدا کو پیارے ہیں ، انہی کو اللہ نے اپنی محبت و مَعْرِفَت کے لیے چنا اور منتخب کیا اور انہی لوگوں کو رب تعالیٰ توفیق وعِصْمَت(پرہیزگاری) کے ساتھ مضبوط کرتا ہے پھر یہی لوگ جنَّتِ فِردوس کے مستحق بنتے ہیں اور اس کی رِضا کا مقام پاتے ہیں۔ تو ہم اللہ تعالیٰ سے( جس کا ذکر بلند ہے) اِلْتِجا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور تمہیں اپنی رحمت سے سعادت مند کرے اور کامیاب لوگوں میں شامل کرے۔(آمین)