انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام کی عصمت کا بیان NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1730 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہوتے ہیں اوران سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا،ان کے معصوم ہونے پربیسیوں دلائل ہیں۔ یہاں پر صرف 3 دلائل درج کئے جاتے ہیں۔

(1)…انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے اور مخلص بندے ہیں ،جیساکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں واضح طور پر ارشاد فرمایا:

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰہُمۡ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ(ص: ۴۶)
ترجمہ:بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس(آخرت کے) گھر کی یاد ہے۔

اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیۡنَ﴿۲۴﴾ ‘‘ (یوسف: ۲۴)
تترجمہ:بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے ۔

اور جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہیں شیطان انہیں گمراہ نہیں کر سکتا، جیسا کہ اس کا یہ اعتراف خود قرآن مجید میں موجود ہے:
’’قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾ اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ ﴿۸۳﴾‘‘(ص: ۸۲-۸۳)
ترجمہ:اس نے کہا: تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا کہ وہ ان سے گناہ یا کفر کرا دے۔

(2)…گناہ کرنے والا مذمت کئے جانے کے لائق ہے ،جبکہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً ارشاد فرما دیاکہ
’’وَ اِنَّہُمْ عِنۡدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیۡنَ الْاَخْیَارِ ﴿ؕ۴۷﴾‘‘ (ص: ۴۷)
ترجمہ:اور بیشک وہ ہمارے نزدیک بہترین چُنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔

(3)…انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرشتوں سے افضل ہیں اور جب فرشتوں سے گناہ صادر نہیں ہوتا تو ضروری ہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بھی گناہ صادر نہ ہوکیونکہ ا گر انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بھی گناہ صادر ہو تو وہ فرشتوں سے افضل نہیں رہیں گے ۔
-------------
از: تفسیر صراط الجنان جلد اول